3 اگست 2024 - 17:51
غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں شہید اسماعیل ہنیہ کے قتل کی تفصیلات کے بارے میں نیا اعلان

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے شہید اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بارے میں تحقیقات کے سلسلے میں نیا بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے: تحقیقات کی رو سے، یہ دہشت گردانہ کاروائی غیر ملکی مہمانوں کی رہائش گاہ کے اطراف سے کم فاصلے پر مار کرنے والے اور شدید دھماکے سے پھٹنے والے سات کلوگرام دھماکہ خیز مواد کے وار ہیڈ کے حامل پروجکیٹائل داغ کر انجام پائی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے شہید اسماعیل ہنیہ پر دہشت گردانہ حملے کی تحقیق کے سلسلے اپنا تیسرا بیان جاری کیا جس کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جرائم پیشہ صہیونی ریاست کے دہشت گردانہ حملے کے بعد ـ جو عظیم الشان شہید اور حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ (حماس) کے سیاسی شعبے کے بہادر اور مجاہد سربراہ ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ اور ان کے ساتھی کی شہادت پر منتج ہؤا ـ ملت ایران کو مطلع کیا جاتا ہے:

1۔ کاروائی کی منصوبہ بندی صہیونی ریاست نے کی اور غاصب ریاست کے ہاتھوں ہی عمل میں لائی گئی۔

2۔ تحقیق اور جائزوں کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دہشت گردانہ کاروائی غیر ملکی مہمانوں کی رہائش گاہ کے اطراف سے کم فاصلے پر مار کرنے والے اور شدید دھماکے سے پھٹنے والے سات کلوگرام دھماکہ خیز مواد کے وار ہیڈ کے حامل پروجکیٹائل داغ کر انجام پائی ہے۔

آخر میں اعلان کیا جاتا ہے کہ "شہید اسماعیل ہنیہ" کی خونخواہی یقینی ہے اور مہم جو اور دہشت گرد صہیونی ریاست کو، مناسب مقام اور مناسب وقت پر اس جرم کا جواب ـ جو "شدید سزا" سے عبارت ہے ـ قطعی طور پر دیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔

واضح رہے کہ مذکورہ واقعے کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کی ایک جعلی رپورٹ ـ جسے بعض اردو اخبارات میں بھی کوریج دی گئی ہے ـ شائع ہوئی ہے جو قیاس آرائیوں پر مبنی اور "نامعلوم ذرائع" سے منقول، جھوٹ کا پلندہ، اور ناقابل اعتماد ہے۔ اس رپورٹ کا ایک جائزہ ابنا نے شائع کیا ہے جس کا لنک درج ذیل ہے:

نیویارک نے صہیونی دہشت گردانہ کاروائی کے بارے میں جھوٹی افواہ کیوں پھیلائی؟

https://ur.abna24.com/story/1476061

۔۔۔۔۔

110